ناول کا خلاصہ اور اس کے کردار ۔۔
ناول: عکس اور آئینے
مصنفہ: نسیم ارشد
ناول کی اشاعت سال / مہینے : خواتین ڈائجسٹ اگست 2010
صفحات: 32
ناول کے اہم کردار: ہیروئن حسنہ ، ہیرو خرم ٫ حسنہ کی خالہ
کہانی کا ٹاپک: آفٹر میرج سٹوری، سوشل رومینٹک ناول
حسنا اور اس کے بہن بھائی والدین کے انتقال کے بعد اپنی خالہ کی سرپرستی میں پرورش پاتے ہیں۔ لیکن خالہ کے شوہر انہیں چھوڑ کر اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ کئی سال گزرنے کے بعد جب خرم اپنی والدہ کے پاس واپس آتا ہے تو وہ اس کی شادی اپنی بھانجی حسنا سے کروانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ 💍❤️
خرم اپنی والدہ کی باتوں سے اپنے کزنز کو عام تعلیم یافتہ سمجھتا ہے، لیکن اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ حقیقت اس کی سوچ سے کتنی مختلف ہے۔ دوسری طرف اس کی سادہ مزاج والدہ اپنے بھانجے اور بھانجیوں کو پیار سے منی، بلو اور ننھی جیسے دلچسپ عرفی ناموں سے بلاتی ہیں۔ 😍😂 ان کی معصومانہ باتیں اور سادگی کہانی میں خوبصورت مزاح پیدا کرتی ہیں۔
🌹 عکس اور آئینے ایک ہلکی پھلکی، دلچسپ اور خوشگوار سماجی و رومانوی کہانی ہے، جس میں رشتوں کی اپنائیت، غلط فہمیاں اور محبت کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خرم کی سوچ اور اس کی والدہ کی باتوں سے پیدا ہونے والے مزاحیہ لمحات کہانی کو مزید دل چسپ بناتے ہیں۔ 💕✨
🥰📖 رومان، مزاح اور خوبصورت خاندانی رشتوں سے سجی یہ مختصر کہانی خوش گوار اختتام کے ساتھ پڑھنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ 🌸❤️
عکس اور آئینے پر میرا تبصرہ ۔۔
نسیم ارشد کا یہ ناول خواتین ڈائجسٹ کے اگست 2010ء کے شمارے میں شائع ہوا، اور بتیس صفحات کی مختصر سی کہانی میں رشتوں کے کئی رنگ سمیٹ لیتا ہے۔ یہ ان کہانیوں میں سے ہے جنہیں پڑھتے ہوئے قاری بوجھل نہیں ہوتا بلکہ مسکراتا چلا جاتا ہے۔
کہانی کی بنیاد ایک جانی پہچانی مگر ہمیشہ دل کو چھو لینے والی صورتِ حال پر ہے: والدین کے بعد خالہ کے سائے میں پلنے والے یتیم بچے، اور برسوں بعد پردیس سے لوٹنے والا کزن۔ مصنفہ نے ان بچوں کی محرومی کو رونے دھونے کا موضوع نہیں بنایا، بلکہ ان کی زندگی میں چھپی خودداری اور حوصلے کو نمایاں کیا ہے۔
ناول کی اصل خوبی اس کا مزاح ہے۔ خرم کی والدہ کا سیدھا سادہ مزاج اور بھانجوں بھانجیوں کو منی، بلو اور ننھی جیسے ناموں سے پکارنا کہانی میں گھریلو اپنائیت پیدا کرتا ہے۔ یہ نام صرف ہنسانے کے لیے نہیں، بلکہ اس محبت کی علامت ہیں جو خونی رشتوں میں بغیر کہے موجود ہوتی ہے۔ ماں کی باتوں سے خرم کا اپنے کزنز کے بارے میں غلط اندازہ لگانا غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے، اور یہیں سے کہانی کا اصل لطف شروع ہوتا ہے۔
ناول کا نام بھی معنی خیز ہے ، عکس وہ ہے جو ہم دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں سے اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں ۔اور “آئینہ ” وہ حقیقت ہے جو سامنے آکر ہمارے اندازے توڑ دیتی ہے ۔خرم کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ وہ جو تصویر لے کر آیا تھا حقیقت اس سے بہت مختلف نکلتی ہے ۔
کردار حقیقی لگتے ہیں اور رومان میں بھی شائستگی جھلکتی ہے ، ہاں مختصر ہونے کی وجہ سے کچھ جزباتی پہلو مزید پھیلاؤ کے متقاضی تھے ، مگر ڈائجسٹ کے قارئین کے لئے یہ فرصت کے لمحوں کی ایک خوشگوار اور ہلکی پھلکی تحریر ہے۔








