Novel Description
📕ناول: ساری بھول ہماری تھی
✍️مصنفہ: راحت جبیں
ناول کی اشاعت/ مہینہ / سال: خواتین ڈائجسٹ جنوری – اگست 2012
8 اقساط پر مبنی ایک مکمل ناول: صفحات: 125
ایک دلچسپ، پیاری ، فیملی سٹوری جس میں رشتوں کی پیچیدگیاں بھی ہیں غلط فہمیاں،خود غرضی , خاندانی رویے بھی اور محبت جیسے خوبصورت جزبات بھی شامل ہیں جن کو مصنفہ نے اپنے دلکش انداز تحریر کے ساتھ نہایت اچھے طریقے سے پیش کیا ہے ۔
کہانی کی ہیروئن اریشہ ہے جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اس کی والدہ ایک ٹیچر ہیں اور وہ اپنی بیٹی اریشہ کے لئے بہت فکرمند رہتی ہیں ۔ساتھ والے پورشن میں ہیروئن کے تایا رہتے ہیں جن کے بیٹے ثوبان کو اریشہ پسند کرتی ہے💓۔۔لیکن اس رشتے میں کئی الجھنیں موجود ہیں ۔
اریشہ کی والدہ اپنی جیٹھانی یعنی ہیروئن کی تائی کے خاندان کو بالکل بھی پسند نہیں کرتیں کیونکہ تائی کا رویہ بہت خودغرض اور مفاد پرستانہ ہے ۔اس گھر کے مختلف افراد کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں جو ناول کو مزید انٹرسٹنگ بنا دیتی ہیں ، ادھر ثوبان کا بڑا بھائی بھی کسی عائشہ نام کی لڑکی کو پسند کرتا ہے لیکن حالات اس وقت بہت کشیدہ ہو جاتے ہیں جب ثوبان کی ماں عائشہ کے گھر جا کر اس کی اور اس کی ماں کی بہت بے عزتی کرتی ہیں 🥲
ہیرو ابرار ہے جو ایک دیہاتی پس منظر رکھنے والا نوجوان ہے ، ابرار کے والد کے انتقال کے بعد وہ تعلیم کے سلسلے میں شہر میں رہتا ہے ابرار کے چچا کی بیٹی بشری ابرار کو پسند کرتی ہے لیکن ابرار کے دل میں اس کے لیے کوئی جزبات نہیں ہوتے ۔۔چچا جب اسے اس رشتے کے لئے زبردستی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ثوبان کے گھر قیام کرنے کے لئے چلا جاتا ہے کیونکہ ثوبان اور ابرار کے والد کی آپس میں رشتہ داری بھی ہوتی ہے۔۔
ابرار کو جلدی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ثوبان کی والدہ کو اس کا ان کے گھر آکر رہنا کچھ پسند نہیں آیا اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی جانچ لیتا ہے کہ ثوبان اریشہ کے لئے کوئی محبت نہیں رکھتا محض اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے ، کیونکہ اریشہ ثوبان کی مالی مدد کرتی رہتی ہے اس لئے یہ بات ابرار اریشہ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اریشہ سخت غصے میں آجاتی ہے اور اس کی بات سننے اور سمجھنے کے الٹا اس کے ساتھ سخت رویے سے پیش آتی ہے اور ابرار کو ناپسند کرنے لگتی ہے جبکہ ابرار کے دل میں اریشہ کے لئے محبت کے جزبات پیدا ہو جاتے ہیں 💕
اس ناول میں ایک بہت پیارا کردار اریشہ کی پھوپھو کا بھی ہے ان کا کردار محبت،خلوصِ اور اپنائیت کی ایک بہترین مثال نظر آتا ہے ،ثوبان کی بہن کی شادی بھی اریشہ کے پھوپھو کے بیٹے سے ہو جاتی ہے ، اس دوران اریشہ کی والدہ کا انتقال ہو جاتا ہے تو پھر پھوپھو اریشہ کو اپنے گھر لے آتی ہیں جس سے کہانی ایک جزباتی موڑ اختیار کرتی ہے۔۔
سب کہانیاں بہت اچھے انداز میں چلتی ہیں اس سے آگے کیا ہوتا ہے یہ تو کہانی پڑھنے پر ہی پتہ چلے گا لیکن اس کہانی کا اینڈ Happy 😊ہے۔۔
راحت جبیں جو ایک بہت مشہور اور میری طرح آپ لوگوں کی بھی پسندیدہ مصنفہ ہیں ان کا انداز تحریر بہت میچور اور کہانی پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہوتی ہے ایسے کہ کہانی پڑھنے کے بعد دل میں کوئی کسک نہیں رہتی ۔۔
کہانی پر میرا تبصرہ
“ساری بھول ہماری تھی ” ایک بھرپور گھریلو سٹوری ہے جو رشتوں کی خوبصورتی ،پیچیدگیوں کو بڑے سلیقے سے پیش کرتا ہے ۔۔آٹھ قسطوں پر پھیلی ہونے کی وجہ سے اس میں کرداروں کو ابھرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔
اس ناول کی سب سے بڑی خوبی مختلف کرداروں اور ان کی ذیلی کہانیوں کا متوازن مزاج ہے ، تائی کی لالچی فطرت، ثوبان کی مطلب پرستی اور ابرار کی سمجھداری ، ہر کردار حقیقی لگتا ہے۔
اریشہ کی ناسمجھی اور ابرار کی خاموش فکرمندی کے درمیان کشمکش قاری کو کہانی سے جوڑے رکھتی ہے ۔۔
ہیروئن اریشہ کی پھوپھو کا کردار کہانی کی جان ہے جو یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل اپنائیت صرف دکھاوے سے نہیں بلکہ مشکل میں ساتھ کھڑے ہونے سے ہی ثابت ہوتی ہے 😍
ممکن ہے کہ کرداروں کی کثرت کی وجہ سے ابتداء میں کچھ قارئین کو تعلقات سمجھنے میں تھوڑا بہت ٹائم لگے ، مگر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے سب کچھ واضح ہوتا چلا جاتا ہے ،
اوور آل یہ ایک سبق آموز ،دلچسپ اور دل کو چھو لینے والا ناول ہے جو کہ یقیناً راحت جبیں کے فینز کو تو ضرور پڑھنا چاہیے 👌میری طرف سے تو یہ ایک ریکمینڈڈ ناول ہے 🥰











