Novel: Hum Kaisy Dewany thay
Writer: Iffat Sehar Tahir
Published in: Iram Digest March 2000
Status: Complete Novel
Pages:32
Genre:Cousins based Romantic Love Story 💞 | Family Based
File Format: Pdf (Online)
Writer – Iffat Sehar Tahir
Iffat Sehar Tahir has created a varied collection of Urdu stories in which relationships often form the heart of the narrative. Alongside romantic elements, her fiction touches upon social circumstances, women’s experiences, family expectations, and the difficulties that can arise from complicated relationships. Khwab Sheeshe Ka is one example of her work dealing with women’s place and respect in society, while Mohabbat Dil Pe Dastak explores wider social and relationship issues.
Novel Description
📖 ناول کا نام: ہم کیسے دیوانے تھے
✍️ مصنفہ: عفت سحر طاہر
🗞️ شائع ہوا: ارم ڈائجسٹ، مارچ 2000
یہ ایک خوبصورت، معصوم محبت اور خاندانی رشتوں کے گرد گھومتی ہوئی پیاری سی کہانی ہے 💕🌸۔
👩 ہانیہ اور 👨 وامق آپس میں کزن ہیں۔ وامق کے والدین نے اپنی پسند سے شادی کی تھی، جس کی وجہ سے کافی عرصے تک خاندان ان سے ناراض رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ناراضی ختم ہو جاتی ہے اور وامق کا خاندان ہانیا کے پڑوس میں نئے گھر میں آ کر رہنے لگتا ہے 🏡🙂۔
✨ وامق اور ہانیا کی پہلی ملاقات بھی عام انداز میں نہیں بلکہ ایک دلچسپ اور مزاحیہ صورتحال میں ہوتی ہے، جو ان کی کہانی کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے 😄۔
🌷 رشتوں، محبت اور ہلکے پھلکے مزاح سے سجی یہ ایک cute اور feel-good story ہے، جو پڑھنے والے کو آخر تک جوڑے رکھتی ہے۔ کہانی کا اختتام بھی خوشگوار ہے 💛👩❤️💋👨۔
کردار؛
ہانیہ: شوخ اور سادہ مزاج لڑکی، جس کی فطری معصومیت کہانی میں تازگی بھرتی ہے۔
وامق: خوش مزاج اور نرم دل نوجوان، جو اپنے والدین کی محبت کی شادی کے سائے میں پلا ہے اور رشتوں کی قدر جانتا ہے۔
تبصرہ…
عفت سحر طاہر کی یہ تحریر اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی ایک ہلکی پھلکی کہانی بھی دل پر گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ عنوان ہی بیتے ہوئے معصوم دنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور پڑھتے ہوئے قاری کو اپنی نوجوانی کی کچھ شرارتیں یاد آ جاتی ہیں۔
ارم ڈائجسٹ کے سنہ دو ہزار کے دور کی سادگی اس میں نمایاں ہے۔ نہ بھاری بھرکم مکالمے ہیں، نہ الجھے ہوئے موڑ؛ بس دو نوجوان دلوں کی نرم کیفیت ہے جو قدم قدم پر مسکراہٹ بکھیرتی ہے۔ مصنفہ نے محبت کو شور اور جذباتی ہنگامے سے آزاد رکھا ہے، اور یہ انتخاب کہانی کو تازگی دیتا ہے۔ خاندانی پس منظر بھی خوش آئند ہے، کیونکہ اس میں ناراضی کے بعد صلح کا جو احساس ہے وہ بغیر وعظ کے پہنچ جاتا ہے۔ پڑوس میں رہنے کا ماحول گھریلو قربت پیدا کرتا ہے اور کرداروں کی ملاقاتیں فطری لگتی ہیں۔ ہلکا پھلکا مزاح کہانی کی جان ہے، اور اس کا لہجہ شائستہ رہتا ہے۔
کمزوری یہ ہو سکتی ہے کہ جو قاری گہرے تنازعات یا بڑے انکشافات کی توقع رکھتے ہیں، انہیں یہ کہانی سادہ لگے گی، اور کچھ مناظر کا اندازہ پہلے سے ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ سادگی کوئی خامی نہیں بلکہ اس کا مزاج ہے، کیونکہ کہانی کا مقصد دل کو بوجھل کرنا نہیں بلکہ ہلکا کرنا ہے۔ اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہے کہ پرانی رنجشیں وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہیں اور نئی نسل نئے رشتوں کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود کہانی ادھوری نہیں لگتی اور اپنا تاثر مکمل چھوڑتی ہے۔ زبان رواں ہے، جملے آسان ہیں اور پڑھتے ہوئے کہیں بوریت نہیں ہوتی۔ جو قارئین ہنستی مسکراتی، صاف ستھری رومانوی کہانیاں پسند کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک دلکش انتخاب ہے۔ اختتام سکون دیتا ہے اور چہرے پر ہلکی مسکراہٹ چھوڑ جاتا ہے۔












