ناول: ایک بوند سے سمندر بنے
اشاعت: کرن ڈائجسٹ، دسمبر 1999
مصنفہ: شہنیلا صدیقی
صفحات:33
یہ کہانی ایک مضبوط اعصاب اور نرم دل رکھنے والی لڑکی میرب کے گرد گھومتی ہے 🌷 جس کے والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داریاں اس کی قسمت بن جاتی ہیں۔ بیمار بھائی اور محدود وسائل کے باوجود وہ ہمت نہیں ہارتی بلکہ خاموشی سے جدوجہد کرتی ہے۔ حالات کا بوجھ اٹھانے کے لیے وہ دو مختلف جگہوں پر ملازمت کرتی ہے، مگر اس کی خودداری کبھی مجروح نہیں ہوتی ۔۔
میرب کی منگنی اپنی خالہ کے بیٹے سے طے ہے، لیکن خالہ دولت اور حیثیت کے غرور میں اس رشتے کو کمتر سمجھتی ہیں۔ وہ بادلِ ناخواستہ رضامند تو ہو جاتی ہیں، مگر دل کی کشمکش اور برتری کا احساس کہانی میں کئی جذباتی رنگ بھرتا ہے 💔
قسمت اسے ایک میگزین آفس تک لے آتی ہے جہاں اس کی ملاقات ازعان آفریدی سے نہایت دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں ہوتی ہے 😄 پہلی ملاقات کی غلط فہمیاں، ہلکی سی تکرار اور چٹکلے کہانی کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ ازعان کا پرکشش، قدرے شوخ مگر باوقار انداز میرب کی سنجیدہ طبیعت سے خوب ٹکراتا ہے۔
وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان عزت، اعتماد اور محبت کا رشتہ پروان چڑھتا ہے 🌸💞 کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ خلوص اور محنت کی ایک بوند بھی اگر سچے دل سے گرے تو وہ سمندر بن جاتی ہے 🌊✨
سادہ اسلوب، خاندانی ماحول اور مثبت انجام اس ناول کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ آخرکار صبر اور محبت جیت جاتے ہیں اور کہانی خوشیوں بھرے اختتام پر مکمل ہوتی ہے 👩❤️👨🌹
ایک دلنشین، نرم و نازک جذبات سے سجی خوبصورت داستان 💕







