Novel Description
ناول کا نام: نیناں لگیاں بارشاں
مصنفہ: صبا جاوید
اشاعت: حنا ڈائجسٹ، فروری 2013
صفحے: 55
یہ کہانی Age Difference Based اور شادی کے بعد محبت کے گرد گھومتی ہے۔
کہانی کا خلاصہ:
ہیروئن علیشہ رضوی ہے، جو تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ اس کا کوئی بھائی نہیں ہے ۔ اس کی بڑی بہن کی جہاں شادی طے ہوتی ہے اس کا دیور حازم اچانک عائشہ کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ 😍
ہیروئن کے رشتے دار صائم مرتضیٰ ہیں، جو کزن بھی ہیں۔ وہ تعلیم کے سلسلے میں شہر میں رہتے ہیں اور ہیرون کی بڑی بہن کی تعلیم میں مدد کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیرون اور صائم کی ملاقات چھ سال کے بعد ہو رہی ہے۔ 😳📚
ہیروئن کے والدین، بغیر اس کی رائے جانے، اس کی شادی صائم سے طے کر دیتے ہیں۔ شروع میں علیشہ کو یہ رشتہ پسند نہیں آتا، لیکن حالات اور قربت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں۔ 💕
شادی کے بعد:
شادی کے بعد کہانی میں رومانس، جذبات اور دلکش لمحات شامل ہیں۔ ہیروئن اور صائم کے درمیان محبت بڑھتی ہے، اور دونوں خوشیوں بھری زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ 🌹
کہانی کا اختتام خوشگوار ہے، جہاں محبت اور رشتے مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ ❤️
مختصر تعارف کرداروں کے بارے میں ۔۔
علیشہ: ہیروئن؛ تین بہنوں میں سب سے چھوٹی، ابتدا میں الجھی ہوئی مگر بعد میں محبت میں نرم پڑنے والی لڑکی۔
صائم مرتضیٰ: ہیرو؛ سنجیدہ، بردبار اور تعلیم سے وابستہ، جس کا ٹھہراؤ رشتے کو سہارا دیتا ہے۔
حازم: بڑی بہن کے سسرال کا فرد، جس کی دلچسپی کہانی میں ایک ضمنی موڑ پیدا کرتی ہے۔
علیشہ کی بڑی بہن: وہ کردار جس کی شادی اور تعلیم کے حوالے سے کہانی کے کئی واقعات جڑتے ہیں۔
والدین: وہ سرپرست جو بیٹی کا رشتہ اس کی رائے لیے بغیر طے کر دیتے ہیں۔
ایک دلچسپ تبصرہ؛
نیناں لگیاں بارشاں” کا عنوان ہی ایک بھیگے ہوئے احساس کی خبر دیتا ہے، اور صبا جاوید نے پوری کہانی میں اسی نمی اور نرمی کو برقرار رکھا ہے۔ پچپن صفحات کا یہ مختصر ناول اس خیال پر کھڑا ہے کہ ناپسندیدگی سے شروع ہونے والا رشتہ بھی وقت کے ساتھ دل کا سب سے قیمتی ٹھکانا بن سکتا ہے۔
ناول کی ابتدا ایک ایسی لڑکی سے ہوتی ہے جسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اپنے بغیر ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کی ناراضی اور الجھن میں وہ حقیقت جھلکتی ہے جو ہمارے گھروں میں اکثر بیٹیوں کے حصے میں آتی ہے۔ مصنفہ نے اس کیفیت کو بغاوت کے شور کے بجائے دبی ہوئی بے چینی کے ذریعے دکھایا ہے، جس سے کردار اپنا اپنا سا لگتا ہے۔
کہانی کی سب سے دلکش بات برسوں بعد ہونے والی ملاقات کا تاثر ہے۔ جو شخص کبھی محض رشتہ دار تھا، وہی اب ایک نئی حیثیت میں سامنے آتا ہے، اور دونوں کے درمیان ہچکچاہٹ، اجنبیت اور پھر آشنائی کے مرحلے دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔ عمر کا فرق یہاں ٹھہراؤ، سمجھداری اور حفاظت کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے، جو ہیروئن کی نادانی کو سنبھالنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
شادی کے بعد کے حصے میں رومانس لطیف اور شائستہ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، نظریں چرانا اور بے ساختہ مسکراہٹیں اس تعلق کو حقیقت سے قریب رکھتی ہیں۔ زبان سلیس اور دل پذیر ہے اور بیانیہ کہیں بوجھل نہیں ہوتا۔
البتہ بڑی بہن کے رشتے والا ضمنی قصہ اتنی توجہ نہیں پا سکا جتنی اس کی گنجائش تھی، اور کچھ مناظر جلدی سمٹ جاتے ہیں۔ پھر بھی کہانی کا مجموعی تاثر خوشگوار رہتا ہے۔
یہ ان قارئین کے لیے ایک پرسکون انتخاب ہے جو کم وقت میں ایک میٹھی اور پرامید محبت کی کہانی پڑھنا چاہتے ہیں۔
آخری بات ۔۔
اس ناول میں Age Difference Based سٹوری ہے جو کہ کچھ لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور ان کے لئے یہ خاص طور پر ریکمینڈڈ ہے یقینی طور پر پسند آئے گا ان لوگوں کو جو آفٹر میرج سٹوری پڑھنا پسند کرتے ہیں ۔













