کہانی کی تفصیل؛
ناول کا نام: گلے ملتا ہے خواب کوئی
مصنفہ کا نام: مہوش افتخار
ناول کی اشاعت/مہینہ/ سال: شعاع ڈائجسٹ جون 2012
صفحات: 45
مکمل اردو ناول ۔
ناول کا ٹاپک: جاگیردارانہ نظام ٫ اغواء اور محبت کے رنگ میں ڈوبی محبت کی ایک دلچسپ داستان جس میں رشتوں کی الجھنیں بھی موجود ہیں اور کچھ سیاسی اثرورسوخ بھی شامل ہے ۔
مصنفہ کا تعارف؛
مصنفہ مہوش افتخار کا نام نیا نہیں ہے بلکہ کافی عرصے سے اردو ڈائجسٹ میں انکی کہانیاں شائع ہورہی ہیں اور بہت پسند کی جارہی ہیں ۔ لوگ ان کی کہانیوں کو بہت پسند کرتے ہیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ان کا لکھنے کا انداز بھی میچور ہے اور کہانی کو بہت اچھے سے لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے کو جھنجھلاہٹ نہ ہو اور مکمل سمجھ بھی آجائے۔
خلاصہ:
ہیرو علی شیر ہے اور ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ہیروئن علینہ کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے ، یونیورسٹی میں علی شیر کی شہرت کچھ اچھی نہیں ہوتی ۔لیکن وہ علینہ کو پسند کرنے لگتا ہے ، دوسری طرف علینہ اپنے کزن اسد سے انگیجڈ ہوتی ہے اور وہ علی شیر کو پسند بھی نہیں کرتی ۔
علینہ کا منگیتر اسد بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور وہ بھی علی شیر کی طرح سیاست میں کافی دلچسپی رکھتا ہے ۔۔
علینہ کی وجہ سے علی شیر اور اسد میں کچھ اختلافات ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ بڑھ جاتے ہیں تو اسی وجہ سے کہانی ایک نیا رخ لیتی ہے ۔۔
آگے کیا ہوتا ہے ، کیا علینہ کی زندگی میں کوئی نئی تبدیلی آتی ہے اس بات کو جاننے کے لیے آپ اس ناول کو پڑھیں 🥰
یونیورسٹی بیسڈ لو سٹوری اور پھر کچھ سیاسی چپقلش پر مبنی یہ کہانی آپ کو ضرور پسند آئے گی آخر میں ایک اچھا پیارا اختتام بھی ہوتا ہے ۔ 👌❤️
کرداروں کا مختصر تعارف؛
علی شیر؛ اس ناول کا ہیرو علی شیر ہے جو سیاست سے بھی وابستہ ہے اور یونیورسٹی میں اس کی ریپوٹیشن کچھ اچھی نہیں، ضدی طبیعت کا دولت مند گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان ۔
علینہ؛ ناول کی مرکزی کردار ہیروئن علینہ ہے جو یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور علی شیر کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی ، جبکہ علی شیر علینہ کو پسند کرتا ہے۔
اسد: علینہ کا منگیتر اسد ہے وہ بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور سیاست سے وابستہ بھی ہے۔
کہانی سے متعلق میرا نقطئہ نظر ۔۔
مہوش افتخار کا یہ ناول شعاع ڈائجسٹ کے صفحات پر جون 2012 میں سامنے آیا ، اور اپنے موضوع کی وجہ سے ناول پڑھنے والوں کو بڑا متاثر کیا ۔۔
مصنفہ نے اس ناول میں پس منظر میں ایک وڈیرا شاہی کے رعب دار ماحول کو دکھایا ہے کہ دولت اور طاقت اگر کسی نوجوان کے ہاتھ میں آجائے تو وہ اس کا کس طرح سے غلط استعمال بھی کرسکتا ہے۔اور اس کی سوچ اور رویے پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
کہانی کی سب سے بڑی خوبی وہ سسپنس ہے جو پڑھنے والے کو صفحہ پلٹنے پر مجبور کر دیتا ہے کیونکہ سب واقعات ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ دلچسپی بڑھ جاتی ہے ، جزبات کی شدت اور کشمکش کو مصنفہ نے بہت اچھے سے سنبھالا ہوا ہے کہ کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا ۔
ناول میں ایک طرف تو دل کی نرم کیفیات ہیں اور دوسری طرف اقتدار کی رسہ کشی کا تلخ رنگ ، ان دونوں پہلوؤں کا امتزاج کہانی کو ایک کہانی سے ہٹ کر منفرد سا رنگ دیتا ہے ،نوجوانوں کی ضد،انا اور جزباتی فیصلوں کی عکاسی حقیقت کے قریب محسوس ہوتی ہے ۔
منظر نگاری بہت خوبصورت سی کی گئی ہے کہ آنکھوں کے سامنے وہ سارا ماحول آجاتا ہے ،کہانی میں تجسّس برقرار رکھا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے اینڈ تک کہانی میں دلچسپی ختم نہیں ہوتی ۔۔
تنقیدی پہلو ۔۔
کہیں کہیں واقعات میں اتفاقات کا سہارا زیادہ لیا گیا ہے اور بعض کردار گہرائی کے زیادہ مستحق تھے ،اگر ان کی اندرونی کشمکش کو اور زیادہ نمایاں کیا جاتا تو کہانی کا تاثر مزید گہرا ہو سکتا تھا اس کمی کے باوجود کہانی کا مجموعی لطف ختم نہیں ہوجاتا۔
اوور آل:
کہانی کا پلاٹ بہت اچھا ہے کرداروں پر گرفت بہت مضبوط،مکالمے بھی بہت اچھے ہیں،مصنفہ نے اس ٹاپک پر بہت شاندار لکھا ہے اور آخر میں ایک پیاری سی اینڈنگ پر ختم کر کے ناول کی دلچسپی بھی بڑھا دی ہے ۔ رائٹنگ اسٹائل بھی بہت اچھا میچور ہے ۔جو لوگ فیوڈل سسٹم والی کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں جو یونیورسٹی بیسڈ لو اسٹوری بھی ہو تو وہ اپنے فری ٹائم میں اس کو ضرور پڑھیں ۔یقینی طور پر آپکی گڈ بکس میں شامل ہو گا یہ ناول ۔










