Novel Details
Novel: Dua hogya wo Shakhs
Writer: Iffat Sehar Tahir
Published in: Annchal Digest
Status: Complete Novel
Pages:24
Genre: Village based | Family Based| Love Story 💞
File Format: Pdf (Online)
Author – Iffat Sehar Tahir
The fiction of Iffat Sehar Tahir moves between romance, family relationships, and social issues. Her characters are frequently faced with emotional conflicts or situations that challenge their understanding of love, trust, and responsibility. Works such as Dast-e-Betalab Mein Phool, Bas Ek Lamha, and Tere Hamrah Chalna Hai show different aspects of her storytelling. Her novels have been published and circulated through the Urdu digest-reading tradition over the years.
Novel Description
📖 ناول کا نام: دعا ہو گیا وہ شخص
✍️ مصنفہ: عفت سحر طاہر
🗞️ شائع ہوا: آنچل ڈائجسٹ
یہ ایک دیہاتی پس منظر میں لکھی گئی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی کہانی ہے 🥀۔
👩 ہیروئن بِلو اور ہیرو شیرا آپس میں کزن ہیں اور گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہیروئن کی والدہ چاہتی ہیں کہ اس کی شادی شیرا سے ہو جائے، لیکن بلو اسے پسند نہیں کرتی، جبکہ شیرا دل سے اسے چاہتا ہے 🥰۔
🌸 شہر سے آنے والا لڑکا عثمان بلو کی دلچسپی حاصل کر لیتا ہے، لیکن اس کا کردار اچھا نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال کہانی میں کشمکش اور جذباتی موڑ پیدا کرتی ہے 💔۔
✨ آخرکار سچائی سامنے آتی ہے اور کہانی خوشگوار انجام کے ساتھ مکمل ہوتی ہے ♥️♥️
Novels Characters
بلو: گاؤں کی لڑکی، جو اپنے دل کی بات پر چلنا چاہتی ہے اور ظاہری چمک سے متاثر ہو جاتی ہے۔
شیرا: بلو کا کزن، سادہ مزاج اور وفادار، جس کی چاہت خاموش مگر سچی ہے۔
عثمان: شہر سے آنے والا نوجوان، جس کی میٹھی باتوں کے پیچھے کھوٹ چھپا ہے۔
بلو کی والدہ: وہ ماں جو بیٹی کا رشتہ شیرا سے جوڑنا چاہتی ہیں۔
My Opinion about this Story
عفت سحر طاہر کی یہ تحریر آنچل ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ایک ایسی کہانی ہے جو گاؤں کی مٹی کی خوشبو لیے ہوئے ہے۔ عنوان ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بات کسی ایسی چاہت کی ہو رہی ہے جو خاموشی سے دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مصنفہ نے دیہی زندگی کو محض پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اسے کہانی کا حصہ بنایا ہے۔ رشتہ داریوں کی قربت، بڑوں کی مرضی اور بچوں کی پسند ناپسند کا ٹکراؤ ہمارے معاشرے کی سچی تصویر محسوس ہوتا ہے۔ ماں کی خواہش اور بیٹی کے دل کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ کہانی کی اصل جان ہے۔
کہانی میں ایک طرف خلوص سے چاہنے والا سیدھا سادہ دیہاتی ہے اور دوسری طرف شہر کی چمک دمک لیے ایک اجنبی۔ مصنفہ نے ان دونوں کے فرق کو خوبصورتی سے نمایاں کیا ہے۔ ظاہری رکھ رکھاؤ اور اصل کردار کا یہ تضاد قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی کو پرکھنے کا پیمانہ کیا ہونا چاہیے۔
اس کہانی کا ایک اور اچھا پہلو یہ ہے کہ ایک طرفہ محبت کو کمزوری بنا کر پیش نہیں کیا گیا۔ شیرا کی وفا اور صبر میں ایک وقار ہے، جو آخر تک قائم رہتا ہے۔ ہیروئن کا بے خبری میں غلط سمت چل پڑنا بھی فطری لگتا ہے، کیونکہ جذبات کی رو میں انسان اکثر ایسے ہی فیصلے کر بیٹھتا ہے۔
البتہ دیہی پس منظر میں شہری کردار کی آمد اور اس کا بگڑا ہوا چلن ایک جانا پہچانا فارمولا ہے، اس لیے قاری کئی موڑ پہلے ہی بھانپ لیتا ہے۔ اگر کہانی میں کچھ غیر متوقع پہلو شامل ہوتے تو لطف دوگنا ہو جاتا۔ اسی طرح عثمان کا کردار قدرے سیاہ و سفید دکھایا گیا ہے، اس میں کچھ پیچیدگی ہوتی تو زیادہ حقیقی لگتا۔
Last note
گاؤں کے ماحول پر لکھی گئی یہ ایک انتہائی سادہ اور پیاری تحریر ہے ، یعنی ایک چھوٹے سے موضوع کو بھی مصنفہ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ جو لوگ دیہاتی علاقوں میں رہنے والی زندگی کو پڑھنا چاہتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں ان کے لیے بہت اچھا انتخاب مسکراہٹ کے ساتھ 🥰












