Khwateen Digest July 2009

Khwateen Digest July 2009

Introduction of Khwateen Digest

Digest Name: Khwateen Digest
Language: Urdu
Published: Monthly Digest
Start Year \ Month : April 1972
Founder: Mahmood Riaz
City: Karachi



خواتین ڈائجسٹ پاکستان کے معروف اور قدیم ماہانہ اردو ڈائجسٹ میں اس کا شمار ہوتا ہے اس کا آغاز محترم محمود ریاض صاحب نے اپریل 1972 میں کراچی سے کیا ۔  ڈائجسٹ کی شروعات حمد و نعت سے ہوکر احادیث اور دین کے بارے میں معلومات سے ہوتی ہے اور پھر قسط وار ناول، مکمل ناول ۔ناولٹ اور افسانے ، شاعری ، انٹرویوز، اور اصلاحی مضامین دیئے جاتے ہیں ۔اس کے ساتھ خواتین کی دلچسپی کے لیے کھانے کی اچھی اچھی ترکیب اور بیوٹی ٹپس بھی شامل کی جاتی ہیں تاکہ خواتین کو ایک مکمل پیکج ایک ہی کتاب میں مل سکے۔
اس ڈائجسٹ کو خواتین کے لئے نہ صرف تفریح کے لئے بلکہ ان کے معاشرتی مسائل کے حل کے لئے مواد بھی شامل کیا گیا۔۔خواتین ڈائجسٹ کا  شمارہ جب سے پبلش ہونا شروع ہوا ہے تب سے لے کر آج تک اس نے اپنا معیار گرنے نہیں دیا بلکہ ہمیشہ اپنی دلکش  کہانیوں اور بہترین مواد کے ذریعے قارئین کے دلوں کو تسخیر کئے رکھا۔ اس میں لکھنے والی مصنفات نے اپنی شاندار تحریروں سے نہ صرف میگزین میں اپنا نام بنایا بلکہ ان کے ناولز پر پاکستان کے بہترین ٹیلی ویژن ڈرامے بنائے گئے اور جو لوگ ان رائٹرز کو نہیں بھی جانتے تھے ان  ٹی وی ڈراموں کی بدولت نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی ان کے نام کا ڈنکا بجنے لگا ۔۔اور اس سب کا صحرا بلا شبہ خواتین ڈائجسٹ کو ہی جاتا ہے۔

خواتین ڈائجسٹ جولائی 2009

گرمیوں کی دوپہر ہو یا برسات کی کوئی سست شام، خواتین ڈائجسٹ کا جولائی 2009 کا شمارہ پڑھنے والوں کو ایک بار پھر کہانیوں کی اپنی پسندیدہ دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ شمارہ جلد 37 کا تیسرا شمارہ ہے اور اس کی قیمت صرف 40 روپے رکھی گئی تھی۔
فہرست پر نظر ڈالیں تو ہر مزاج کے قاری کے لیے کچھ نہ کچھ ملتا ہے۔ ناولوں اور طویل کہانیوں کے ساتھ مکمل افسانے ہیں، دل کو چھو لینے والی غزلیں اور نظمیں ہیں، اور ہلکے پھلکے مضامین و مزاحیہ تحریریں بھی۔ گھریلو زندگی، رشتوں کی نرمی گرمی، محبت، جدائی اور امید جیسے موضوعات اس شمارے کی تحریروں میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔
جو قارئین اس زمانے کے ڈائجسٹ پڑھتے رہے ہیں، ان کے لیے یہ شمارہ پرانی یادیں تازہ کرے گا۔ جو پہلی بار پڑھ رہے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ ڈائجسٹ کی کہانیاں سادہ زبان میں کتنی اپنائیت سے لکھی جاتی تھیں۔

خواتین ڈائجسٹ جولائی 2009: مکمل فہرست، ناول اور کہانیاں

اردو ڈائجسٹوں کی دنیا میں خواتین ڈائجسٹ ایک ایسا نام ہے جو کئی دہائیوں سے گھروں میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ گھر کی خواتین ہوں، کالج کی طالبات یا کہانی کا ذوق رکھنے والے عام قارئین، سب کو اس کے نئے شمارے کا انتظار رہتا تھا۔ جولائی 2009 کا شمارہ جلد 37 کا تیسرا شمارہ ہے۔ اس وقت اس کی قیمت صرف چالیس روپے تھی اور اس میں ڈھائی سو سے زیادہ صفحات پر مختلف رنگوں کی تحریریں شامل تھیں۔
اس شمارے کی فہرست دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مدیر نے ہر مزاج کے قاری کا خیال رکھا ہے۔ ایک طرف طویل ناول ہیں جو مہینوں تک قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف مکمل کہانیاں ہیں جو ایک نشست میں پڑھ لی جائیں۔ ان کے ساتھ شاعری، ڈائری، قارئین کے خطوط اور ہلکے پھلکے مضامین بھی ہیں۔

ناول اور سلسلے وار تحریریں

ڈائجسٹ کی اصل جان اس کے ناول ہوتے ہیں اور اس شمارے میں بھی تین نام نمایاں ہیں۔ رخسانہ نگار کا ناول “محبت خواب سفر” صفحہ 36 سے شروع ہوتا ہے۔ فائزہ افتخار کا ناول “تیری گلیاں” صفحہ 170 پر ہے۔ شاہین رشید کی تحریر “میکال ذوالفقار” صفحہ 22 پر موجود ہے۔ ان کے عنوانات ہی بتاتے ہیں کہ محبت، سفر اور رشتوں کے گرد گھومتی کہانیاں قارئین کو پسند آتی رہی ہیں۔

مکمل کہانیاں اور افسانے

رنگ بکھرے” از عفت طاہر،
“غلط فہمی” از راحت جبیں،
“دوہری زندگی” از ثمینہ عظمت،
“حصے کا دیا” از اسماء قادری،
“میں اور تم” از نگہت عبداللہ،
“ہاتھ اٹھائیں” از فوزیہ فرخ،
“آغازِ سحر” از نعیمہ ناز،
“گھنا سایہ”،
“وہی وعدہ” از ساجدہ حبیب،

ان عنوانات پر غور کریں تو ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ “غلط فہمی” اور “میں اور تم” رشتوں کی الجھنوں کا پتا دیتے ہیں۔ “دوہری زندگی” کسی کشمکش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ “گھنا سایہ” اور “حصے کا دیا” میں اپنائیت اور قربانی کا رنگ جھلکتا ہے۔ یہی وہ موضوعات ہیں جن کی وجہ سے ڈائجسٹ کی کہانیاں عام گھرانوں کو اپنی کہانیاں لگتی ہیں۔

مستقل سلسلے

ہر شمارے کی طرح اس میں بھی کچھ مستقل کالم ہیں جو قاری اور رسالے کے درمیان رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ صفحہ 14 پر مدیر کا کالم “کہی سنی” ہے اور صفحہ 15 پر “کرن کرن روشنی”۔ صفحہ 20 پر “ہماری حلیم” کے نام سے ہلکی پھلکی تحریر ہے۔ صفحہ 263 پر امت الصبور کی “میری ڈائری سے” شامل ہے۔ صفحہ 274 پر نادرہ خاتون کا سلسلہ “ہمارے نام” ہے۔ ایسے حصے بتاتے ہیں کہ ڈائجسٹ صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک چھوٹی سی محفل ہوتا ہے جہاں پڑھنے والے بھی اپنی بات کہتے ہیں۔

شاعری کا گوشہ

شمارے کے آخری حصے میں شاعری رکھی گئی ہے۔ صفحات 257 اور 258 پر کئی غزلیں اور ایک نظم ہیں۔ ان میں سلیم کوثر اور گلزار جیسے معروف نام بھی دکھائی دیتے ہیں۔ نثر کی طویل کہانیوں کے بعد چند اشعار پڑھنا قاری کے لیے ایک خوشگوار وقفہ بن جاتا ہے۔

یہ شمارہ آج کیوں اہم ہے؟

کا زمانہ وہ تھا جب ڈائجسٹ کا انتظار مہینے کی سب سے خوشی کی بات ہوتی تھی۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی اسے ضرور پڑھتا تھا، اور پڑھنے کے بعد وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گھومتا رہتا تھا۔ آج اسمارٹ فون کے دور میں وہ پرانے شمارے کسی خزانے سے کم نہیں۔ ان میں اس وقت کی زبان، لکھنے کا انداز اور معاشرتی ماحول محفوظ ہے۔ جو لوگ بچپن میں یہ رسالے پڑھتے تھے، ان کے لیے یہ شمارہ پرانی یادوں کا دروازہ ہے۔ نئے قارئین کے لیے یہ جاننے کا موقع ہے کہ ہماری پچھلی نسل کیا پڑھتی اور کیا سوچتی تھی۔

آخر میں

اگر آپ اردو ناول، افسانے اور ڈائجسٹ ادب کے شوقین ہیں تو جولائی 2009 کا خواتین ڈائجسٹ آپ کی لائبریری میں ضرور ہونا چاہیے۔ اس میں رومانوی کہانیاں بھی ہیں، گھریلو موضوعات بھی اور شاعری بھی۔ شمارہ پڑھنے کے بعد اپنی رائے ضرور لکھیں اور بتائیں کہ آپ کو کون سی کہانی سب سے زیادہ پسند آئی۔

Read PDF Online

Khwateen Digest July 2009

Novels Cafe Avatar

Latest Post