Novel: Khyal o Khwab ka Aalim
Writer: Afshan Afridi
Published in: Khwateen Digest August 1998
Status: Complete Novel
Pages:30
Genre: Social Romantic Novel| Family based
File Format: Pdf (Online)
Novel Description
خیال و خواب کا عالم از قلم افشاں آفریدی
یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے جس میں جذبات، غلط فہمیاں اور اعتماد کا سفر بڑی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے۔ 🌸
ہیروئن لینا ہاشمی کے والدین نے محبت کی شادی کی تھی، لیکن ماں کے انتقال کے بعد لینا کے دل میں اپنے والد کے لیے سختی اور ناراضی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اس کے والد نے اس کی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور بعد میں ان کا وہ خیال نہیں رکھا جس کی وہ مستحق تھیں۔ اسی بدگمانی کی وجہ سے وہ اپنے والد سے سرد مہری اور تلخ رویہ اختیار کر لیتی ہے۔ 💔
لینا ایک باہمت اور خودمختار لڑکی ہے جو رضاکارانہ طور پر ایک این جی او میں کام کرتی ہے۔ وہاں وہ خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ معاشرے کے تلخ تجربات نے اسے مردوں کے بارے میں بدظن بنا دیا ہوتا ہے اور وہ مرد ذات کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتی۔ ✊✨
کہانی میں نیا موڑ تب آتا ہے جب آذر بلگرامی کا کردار سامنے آتا ہے، جو اسی این جی او کا معاون (ڈونر) ہے۔ آذر ایک سنجیدہ، باوقار اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہے۔ اس کی شرافت اور رویہ لینا کے نظریات کو آہستہ آہستہ بدلنے لگتا ہے۔ 🌿💞
وقت کے ساتھ لینا کو احساس ہوتا ہے کہ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا اور ماضی کی تلخیاں حال پر حاوی نہیں رہنی چاہئیں۔ بدگمانیاں دور ہوتی ہیں، رشتے سنورتے ہیں اور کہانی ایک خوشگوار اور اطمینان بخش انجام تک پہنچتی ہے۔ 🌺💍
یہ ناول اعتماد، معافی اور مثبت سوچ کا پیغام دیتا ہے، جس میں رومان اور اصلاحِ معاشرہ دونوں پہلو خوبصورتی سے شامل ہیں۔ 💖
Read PDF Online
Khyal o Khwab ka Aalim by Afshan Afridi
میری کیا رائے ہوسکتی ہے اس ناول کے بارے میں جانئے۔۔۔
خواتین ڈائجسٹ اگست 1998 میں شائع ہونے والا افشاں آفریدی کا یہ ناولٹ ” خیال و خواب کا عالم” ایک جزباتی اور سماجی رنگ لئے ہوئے کہانی ہے جس میں رشتوں کی الجھنیں اور ایک لڑکی کا اندرونی سفر ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
لینا ہاشمی اس کہانی کی ہیروئن جس کے والدین نے پسند کی شادی کی تھی ، ماں کی وفات کے بعد اس کا اپنے والد سے سخت رویہ اختیار کر لینا ، کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ والد نے اس کی والدہ کا خیال خاص طور پر ان کے آخری دنوں میں اس طرح سے نہیں رکھا جیسا کہ ان کو رکھنا چاہیے تھا جس کی وہ حقدار تھیں ۔ یہ پہلو کہانی کو ایک جزباتی گہرائی دیتا ہے ۔کیونکہ بیٹی کا غم اکثر غصے اور بدگمانی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔۔
لینا کا ایک این جی او میں کام کرنا اور ان خواتین کے لئے خواتین کے لئے آواز اٹھانا جو معاشرے کی بے حسی اور ظلم وستم کا شکار ہوتی ہیں یہ کردار کہانی کو ایک سماجی معنویت عطا کرتا ہے۔تاہم اس کا مرد ذات پر اعتبار نہ کرنا دراصل اس کے اپنے تجربے یعنی جو اس کو اسکے والد سے شکایات ہوتی ہیں اس کا نتیجہ ہی ہے۔یہی تضاد اس کے کردار کو مزید دلچسپ بھی بنا دیتا ہے کہ وہ جو دوسروں کے لئے انصاف مانگتی ہے خود اپنے گھر کے رشتے کو شاید پوری طرح سے سمجھ نہیں پاتی ۔
ہیرو آزر بلگرامی دراصل اس NGO کا ڈونر ہے جس میں ہیروئن کام کرتی ہے، جو پہلے سے ہی مردوں سے بدگمان ہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ ہیرو کیسے مرد ذات پر اس کا اعتماد بحال کرواتا ہے ،اچھی کہانی چلتی ہے اور اینڈنگ بھی نائس ہے ۔









