Nayee Ruten Nayee khwab by Bushra Ahmed

Nayee Ruten Nayee khwab by Bushra Ahmed

ناول کی تفصیل،

ناول کا نام؛ نئی رتیں نئے خواب

مصنفہ ؛ بشری احمد

اشاعت: شعاع ڈائجسٹ اکتوبر 2005

ناول کا موضوع: Emergency Nikah based, After Marriage based story, Rude Hero

خلاصہ؛

محبت،مجبوری اور قسمت کے حسین میلاپ پر مبنی ایک خوبصورت انداز میں لکھی ہوئی بشری احمد کی پیاری تحریر ۔۔

ندا ایک پڑھی لکھی ، سلجھی ہوئی لڑکی ہے جس کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور والد بھی شدید بیمار رہتے ہیں، انہی دنوں والد کے ایک دوست ان کی عیادت کے لیے آتے ہیں تو والد ان دوست کے ساتھ اپنی بیٹی کے حوالے سے اپنی پریشانی شئیر کرتے ہیں اگر ان کو کچھ ہو جاتا ہے تو ان کی بیٹی کا کیا ہوگا ان کے جانے کے بعد 🥲۔۔

والد کے ان ہی دوست کے بیٹے کا نام ہادی ہے جو کہ کہانی کا ہیرو ہے ۔ ندا کے والد کی اچانک طبیعت بگڑنے پر ہادی کے والد اس کو بلاتے ہیں اور ایمرجنسی میں ندا اور ہادی کا نکاح کروا دیا جاتا ہے، نکاح کے بعد ندا کے والد کا انتقال ہو جاتا ہے تو ہادی کے والد اس کو اپنے گھر لے آتے ہیں جہاں ایک بڑی جوائنٹ فیملی کا ماحول ہے ۔۔

ہادی اپنی جاب کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتا ہے اور مزاج میں بھی سرد مہری سی ہے کیونکہ وہ اس نکاح سے خوش نہیں ہوتا والد کے کہنے پر مجبور ہوکر اس بندھن میں بندھ تو جاتا ہے لیکن وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے۔

ندا ہادی کے اس رویے کو بھی برداشت کرتی ہے مگر وقت کے ساتھ اس کی سادگی اور خلوص اپنا آپ منوا لیتا ہے ،شادی کے بعد ان کی سٹوری بہت اچھی چلتی ہے اور اچھے انداز پر اختتام پذیر ہوتی ہے یعنی Happy Ending 😍.

کرداروں کا مختصر تعارف؛

ندا؛ کہانی کی مرکزی کردار،ہیروئن ایک حساس بردبار ثابت قدم رہنے والی لڑکی جس پر زندگی کی مشکلات ٹوٹ پڑی ہوں اور وہ پھر بھی بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے ۔

ہادی؛ کہانی کا ہیرو ابتدا میں کافی روڈ مزاج اور لاتعلق سا مگر اندر سے ایک زمہ دار اور والدین کا فرمانبردار ۔۔

ہادی کے والد؛ شفیق اور مہربان بزرگ جو ندا کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں ۔۔

ندا کے والد؛ ایک بیمار اور مجبور شخص جو اپنی بیٹی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے بعد اس کا کیا ہوگا ۔

اس کے علاوہ ہادی کی ایک بڑی سی جوائنٹ فیملی والے لوگ ۔۔

کہانی کے بارے میں میرا تبصرہ ۔۔

مصنفہ بشری احمد کی تحریریں ہمیشہ گھریلو ماحول اور گھریلو کہانیوں پر مبنی سادہ سے انداز میں لکھی ہوتی ہیں جن کو پڑھ کر انسان کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب تو اس کے اردگرد ہی ہو رہا ہے۔ الفاظ ہمیشہ سادگی سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ایک عام گھریلو خاتون بھی بہت آسانی سے سمجھ سکیں نہ کہ اتنی مشکل زبان و الفاظ کے سمجھ میں ہی نہ آسکیں ۔

بشری احمد کی یہ تحریر ایک ایسے سماجی منظر نامے سے جنم لیتی ہے جہاں رشتے اکثر دل کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کے جبر سے بنتے ہیں ۔ پڑھنے والے کو محسوس ہو جاتا ہے کہ مصنفہ کسی بڑے ہنگامے کے بجائے احساسات کی باریکیوں کو موضوع بنانا چاہتی ہیں ،

ناول کی بنیاد اس سوال پر کھڑی ہے کہ کیا بغیر پسند کے جڑنے والا بندھن بھی کبھی اپنائیت میں ڈھل سکتا ہے ؟

اس سوال کا جواب مصنفہ نے جلد بازی میں نہیں بلکہ قدم بہ قدم دیا ہے ۔کہانی کے تانے بانے کو بہت اچھا بنا ہے۔ اس کہانی کی سب سے بڑی خوبی اس کا متوازن سا انداز بیان ہے ،دکھ کے مواقع پر بھی کہانی چیخ و پکار سے بچتی ہے اور کرداروں کی اندرونی کیفیت کو دھیمے لہجے میں سامنے لاتی ہے ۔یتیمی کی تنہائی، نئے گھر کی اجنبیت، اور بڑے خاندان کے درمیان اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد جیسے پہلو حقیقت سے قریب محسوس ہوتے ہیں ، خاص طور پر جوائنٹ فیملی سسٹم جہاں ہر نظر دوسرے کو پرکھتی ہے ،سب بہت اچھے طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔

ناول کا مرکزی تاثر برداشت اور کردار کی خاموش طاقت کا ہے ،ہیروئن ردعمل دینے کے بجائے خاموش رویے سے جواب دیتی ہے اور یہاں سی ہی وہ پڑھنے والے کی ہمدردی حاصل کرتی ہے دوسری طرف ہیرو کی بے رخی کو مصنفہ نے نیگیٹو وے میں نہیں دکھایا بلکہ وہ کسی اور کو پسند کرتا تھا اور زندگی کے اس اچانک فیصلے کو لے کر اس کا رویہ بالکل فطری تھا۔ لیکن پھر نکاح کے رشتے میں بندھ کر زندگی ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے اور پھر اس رشتے کی اپنی ایک الگ ہی خوبصورتی ہوتی ہے جو دل کو نئے جزبات سے روشناس کرواتی ہے ، پھر ساتھ میں بڑھتی ہوئی محبت کہانی کو ایک اچھے خوشگوار اختتام تک لے جاتی ہے ۔

اختتامی الفاظ؛

کہانی کے شروع میں ہی اچانک نکاح کا فیصلہ اور پھر شادی کے بعد شروع ہونے والی کہانی ان لوگوں کے لئے جو روڈ ہیرو ٹائپ لوگوں کی سٹوریز پڑھنا پسند کرتے ہیں کہ ہیرو روڈ تو ہو لیکن برا نہ ہو اور ایک رومینٹک سی سٹوری چلے تو وہ لوگ ہی کہانی ضرور پڑھیں، کیونکہ فیملی ٹاپک پر پڑھنے والے لوگوں کو تو بہت پسند آئے گی جس میں رشتوں کی نزاکت ، صبر کا پھل اور وقت کے ساتھ بدلتے دلوں کا بیان بھی شامل ہے ۔

Read PDF Online

Nayee Ruten Nayee khwab by Bushra Ahmed

Novels Cafe Avatar

Latest Post