Sehar Ab door nahi by Farah Bhutto

Sehar Ab door nahi by Farah Bhutto

ناول کی تفصیل؛

ناول کا نام : سحر اب دور نہیں
اشاعت : خواتین ڈائجسٹ مارچ 2020
مصنفہ : فرح بھٹو

صفحات:45
خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی فیملی بیسڈ افٹر میریج کہانی ہے 🌸
ہیروئن منال کا تعلق ایک شوبز فیملی سے ہے 🎬۔ اس کی بڑی بہن نے اپنی پسند سے شادی کی تھی، اور وہ شادی ہیرو شناور لغاری کے بڑے بھائی سے ہوئی تھی 💍۔
اسی وجہ سے ہیرو کی فیملی نے ان سب سے تعلقات توڑ لیے تھے 💔۔
وقت گزرنے کے ساتھ، منال کی بہن اور بہنوئی ایک حادثے میں جاں بحق ہو جاتے ہیں 😢، اور ان کی ننھی سی بیٹی کی پرورش منال کر رہی ہوتی ہے ۔
ہیرو شناور کی والدہ اپنی پوتی کے لیے بہت اداس رہتی ہیں 😔، اس لیے وہ بیٹے سے کہتی ہیں کہ وہ بچی کو حویلی لے آئے۔
لیکن منال اپنی بھانجی کو دینے کے لیے راضی نہیں ہوتی ۔
آخرکار وہ خود بھانجی کو اس کی دادی سے ملوانے کے لیے ہیرو کے ساتھ حویلی چلی جاتی ہے 🥰۔
کہانی میں جذبات، خلوص اور خاندانی رشتوں کی مٹھاس کو بڑے خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے
ایک پیاری، ہلکی پھلکی، محبت سے بھری کہانی ہے جس کا انجام خوشگوار ہے ♥️

ناول کے کردار؛

منال: ہیروئن؛ شوبز گھرانے کی لڑکی، ایثار پیشہ اور بہادر۔ بھانجی کی پرورش کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتی ہے۔
شناور لغاری: ہیرو؛ روایتی حویلی کا نمائندہ، ابتدا میں فاصلہ رکھنے والا مگر دل کا نرم۔
ننھی بچی: وہ معصوم کردار جس کے گرد دونوں خاندانوں کا تعلق دوبارہ جڑتا ہے۔
شناور کی والدہ: پوتی کی جدائی میں غمگین دادی، جن کی تڑپ کہانی کو آگے بڑھاتی ہے۔
منال کی بہن اور بہنوئی: مرحوم جوڑا جن کی پسند کی شادی ماضی کے اختلاف کی بنیاد بنی۔

میری نظر میں یہ ناول ۔۔

فرح بھٹو کی یہ کہانی اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ پرانی رنجشوں کا بوجھ آنے والی نسل کو کب تک اٹھانا پڑتا ہے۔ عنوان میں امید کی کرن ہے، یعنی تاریکی کتنی ہی گہری ہو، اجالے کا وعدہ باقی رہتا ہے۔ مصنفہ نے دو متضاد گھرانوں کی دوری کو ایک معصوم بچی کے سہارے قربت میں بدلنے کا خیال پیش کیا ہے، اور یہ انتخاب کہانی کو جذباتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ناول کی سب سے مضبوط خوبی خون کے رشتوں اور سماجی حیثیت کے ٹکراؤ کی عکاسی ہے۔ ایک طرف فن کی دنیا سے وابستہ آزاد ماحول، دوسری طرف جاگیردارانہ روایت میں گندھا ہوا گھرانہ۔ اس فرق نے ہی ماضی میں دیواریں کھڑی کی تھیں، اور مصنفہ بتاتی ہیں کہ انا اکثر محبت سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتی ہے۔ بزرگ خاتون کی اپنی پوتی کے لیے تڑپ کہانی کا سب سے حساس مقام ہے، جو قاری کو بھی اداس کر دیتا ہے۔
ہیروئن کا کردار قربانی اور ممتا کی علامت ہے۔ والدین کے بعد ایک بچی کو سنبھالنے والی عورت اپنی خوشیاں پسِ پشت ڈال دیتی ہے، اور اس کا ہچکچانا کہ بچی ہاتھ سے نہ نکل جائے مکمل طور پر قابلِ فہم ہے۔ اس کے مقابل ہیرو کا کردار ابتدا میں خاندانی روایت کا نمائندہ لگتا ہے، مگر حویلی کے سفر میں اس کی نرمی ابھرتی ہے۔ یوں دونوں کے درمیان تعلق کی بنیاد بچی کے لیے مشترکہ فکر پر استوار ہوتی ہے، جو فطری محسوس ہوتی ہے۔
دوسری جانب، پینتالیس صفحات میں دو خاندانوں کی تاریخ اور نئے رشتے کی نشوونما دونوں کو سمیٹنا آسان نہیں، اس لیے بعض مراحل تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ حویلی کے دوسرے افراد کا ردِعمل بھی کم دکھایا گیا ہے، اور ماضی کے تنازع کی وجوہات کو مزید کھولنے کی گنجائش تھی۔ مصالحت کا عمل کچھ آسان معلوم ہوتا ہے۔

اوور آل ؛

مجموعی طور پر یہ کہانی پرخلوص رشتوں پر ہے کہ بچوں کی معصومیت بڑوں کے فاصلے مٹا سکتی ہے ۔گھریلو سٹوریز پسند کرنے والے قارئین ضرور مطالعہ کریں ۔

Read PDF Online

Sehar Ab Door Nahi by Farah Bhutto

Novels Cafe Avatar

Latest Post