Novel Description
ناول کا نام: شام مسکرانے لگی
اشاعت: کرن ڈائجسٹ، مئی 2015
مصنفہ: مریم عزیز
یہ ایک خوبصورت فیملی بیسڈ اور رومانوی کہانی ہے 💕
ہیروئن علینہ اور ہیرو صاحب آپس میں کزنز ہیں، مگر مزاج اتنے مختلف کہ ایک دوسرے کو بالکل برداشت نہیں کرتے 🙂۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیرو کی علینہ کی بڑی بہن کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہے، جو علینہ کو اور بھی کھلتی ہے 😅۔
ہیرو کے والد تین بھائی ہیں اور تینوں خاندان ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں 🏘️۔ علینہ کے والد نہایت سخت اور رعب دار شخصیت کے مالک ہیں، جبکہ علینہ کے تایا کا بیٹا ہیرو سے شدید حسد کرتا ہے 😠۔ اسی حسد میں وہ سب کے سامنے ہیرو کے کردار کو منفی رنگ دے دیتا ہے، جس کی وجہ سے علینہ بھی ہیرو کے بارے میں غلط رائے قائم کر لیتی ہے۔
ان تمام غلط فہمیوں اور ناپسندیدگی کے باوجود گھر والے علینہ اور صاحب کی منگنی طے کر دیتے ہیں 😍۔ آگے کہانی میں حالات بدلتے ہیں، سچ سامنے آتا ہے اور رشتے نئے رنگ اختیار کرتے ہیں 🌸۔
ایک اچھی، ہلکی پھلکی مگر دل کو چھو لینے والی کہانی ہے، جو ہیپی اینڈنگ کے ساتھ ختم ہوتی ہے 💝💝💏
ضرور پڑھیں ✨📖
کچھ اہم کردار؛
علینہ: ہیروئن؛ تیز مزاج، صاف گو اور جلد رائے قائم کر لینے والی لڑکی، جو سچ کھلنے پر اپنی غلطی ماننے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
ہیرو: علینہ کا کزن؛ لاپروا سا دکھائی دینے والا مگر اندر سے کھرا اور باکردار نوجوان، جو الزام کے باوجود خاموش رہتا ہے۔
علینہ کی بڑی بہن: ہیرو کی دوست، جس کی قربت علینہ کی ناگواری کا سبب بنتی ہے۔
علینہ کے والد: رعب دار اور سخت طبیعت کے مالک سرپرست۔
تایا کا بیٹا: حسد میں مبتلا کزن، جو ہیرو کے خلاف غلط فہمیاں پھیلاتا ہے۔
تین بھائیوں کے گھرانے: قریب رہنے والا مشترکہ خاندان، جو کہانی کا پس منظر بناتا ہے۔
میری رائے میں ۔۔
شام مسکرانے لگی” کا عنوان ہی بتا دیتا ہے کہ اس کہانی میں اداسی کے بادل آخرکار چھٹنے والے ہیں۔ مریم عزیز نے ایک ہی خاندان کے دو نوجوانوں کی نوک جھونک کو بنیاد بنا کر ایسی تحریر لکھی ہے جس میں شرارت بھی ہے اور سنجیدگی بھی۔ ہلکے پھلکے انداز کے نیچے ایک اہم پیغام چھپا ہے کہ سنی سنائی بات پر کسی کے بارے میں رائے قائم کر لینا اکثر ناانصافی بن جاتا ہے۔
ناول کی اصل جان اس کا خاندانی ماحول ہے۔ تین گھرانوں کا قریب قریب رہنا، بزرگوں کا رعب، بہن بھائیوں کی چھیڑ چھاڑ اور دلوں میں پلتی رنجشیں، سب کچھ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے اپنے محلے کی کہانی ہو۔ خاص طور پر سخت گیر باپ کی موجودگی گھر کی فضا میں ایک تناؤ اور بیٹی کی بے بسی کا احساس پیدا کرتی ہے۔
دونوں مرکزی کرداروں کی ناچاقی کہانی کو دلچسپ بناتی ہے۔ لڑکی کی جھنجھلاہٹ اور لڑکے کی بے نیازی میں ایسی بے ساختگی ہے جو قاری کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی ہے۔ حسد کرنے والے کزن کا کردار معاملات کو بگاڑنے کا ذریعہ بنتا ہے، اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک جھوٹا الزام کس طرح دو لوگوں کے بیچ دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ جب پردے اٹھتے ہیں تو ہیروئن کی شرمندگی اور بدلتے جذبات فطری معلوم ہوتے ہیں۔
اسلوب شگفتہ اور رواں ہے۔ مکالموں میں چلبلاپن ہے اور بیانیہ کہیں بوجھل نہیں ہوتا۔ البتہ منفی کردار کی چالیں کچھ سیدھی سادی ہیں اور ان میں مزید پیچیدگی کی گنجائش تھی۔ اسی طرح بڑی بہن اور ہیرو کی دوستی کا پہلو ذرا اور کھل کر سامنے آتا تو بہتر ہوتا۔
اوور آل ۔۔
بہرحال یہ ایک انتہائی اچھی سادہ سی کہانی ہے جو کہ ضرور پڑھیں رومینس بھی ہے اور فیملی کی سٹوری بھی بہت نائس ہے ۔۔مریم عزیز کے باقی ناول بھی موجود ہیں،وہ بھی ضرور ریڈ کریں ۔











