ناول کی تفصیل:
ناول کا نام: دھندلکے چھٹ جائیں گے
مصنفہ: عفت سحر طاہر
اشاعت: آنچل ڈائجسٹ جنوری – مارچ 2003
ناول کا موضوع:
ایمرجنسی نکاح بیسڈ؛ فورسڈ میرج، روڈ ہیرو، انوسینٹ ہیروئن ، آفٹر میرج رومینٹک ناول دلکش کہانی
کرداروں کا مختصر تعارف:
ازلان ؛ والدین سے محبت کرنے والا فرماں بردار بیٹا اور ایک فرض شناس پولیس آفیسر،کہانی کا ہیرو ہے لیکن ہیروئن کے ساتھ روڈ ہے۔۔
امتثال؛ ایک مظلوم لڑکی جو حالات کی سنگینی کی وجہ سے ازلان کے گھر رہنے پر مجبور ہوتی ہے ، کہانی کی ہیروئن ہے کیسے ازلان کے ساتھ شادی ہوتی ہے اور کیسے ان کی محبت کی کہانی کی شروعات ہوتی ہے 😍۔۔
زوئیلہ: ازلان کی کزن ہے دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں شادی کرنا چاہتے تھے ،لیکن پھر زوئیلہ کو ازلان سے بہتر اور امیر آدمی مل گیا اس لئے وہ اب ازلان سے پیچھا چھڑا کر اس دوسرے آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔
ان کے علاوہ ازلان کے ماں باپ کا کردار ہے اور زوئیلہ کی ماں کا کردار بھی خاص شامل ہے جو بیٹی کے ساتھ مل کر ازلان اور امتثال کے خلاف منصوبہ بندی کرتی ہیں ۔
خلاصہ؛
ہیرو ازلان ہے اپنی کزن زوئیلہ کو بہت پسند کرتا ہے , اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ، زوئیلہ بھی اسے بہت پسند کرتی تھی ، لیکن اب وہ کسی اور کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور اب اس لڑکے چکر میں کسی بھی طریقے سے ازلان سے جان چھڑانا چاہتی ہے ،اپنی ماں کے ساتھ مل کر زوئیلہ ایک منصوبہ بناتی ہے اور اس کی ماں بھی اسکا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔
ہیروئن امتثال ہے اس کے والدکا انتقال ہوچکا ہے والدہ دوسری شادی کر چکی ہیں لیکن سوتیلے والد کا بھتیجا امتثال پر بری نظر رکھتا ہے اس کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے ، مجبور ہو کر امتثال اپنی ماں کو قائل کرتی ہے کہ اسے اس کے دودھیال بھیج دیا جائے ۔
جب امتثال ازلان کے گھر رہنے آتی ہے تو زوئیلہ اور اس کی ماں امتثال اور ازلان پر الزام تراشی کرکے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیتی ہیں ،
آخرکار حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ والدین ازلان اور امتثال کی زبردستی شادی کروا دیتے ہیں ۔
شادی کے بعد کی سٹوری بہت پیاری ہے ابتداء میں ہیرو بہت روڈ رہتا ہے لیکن آہستہ آہستہ رشتے میں پیار محبت بڑھتی ہے ،اور اس کے ساتھ زوئیلہ اور اس کی ماں کی حقیقت کیسے سامنے آتی ہے یہ بھی جاننے کے لئے ناول پڑھئے ،ایموشنل سی سٹوری ہے جو کہ آخر میں ایک خوبصورت Happy Ending پر ختم ہوتی ہے ۔💕
کہانی سے متعلق میرا خیال ۔۔
عفت سحر طاہر کا یہ پیارا سا ناول ہمارے معاشرے کی ان تلخ سچائیوں کو چھوتا ہے جہاں رشتے کبھی سہارا بنتے ہیں اور کبھی سازش کا ہتھیار ، مصنفہ نے اس میں خاندانی سیاست ، خود غرضی اور بدگمانی جیسے موضوع کو اس طرح سے برتا ہے کہ پڑھنے والا اس کردار کے دکھ کو ہی اپنا سمجھنے لگتا ہے ،
تحریر کی سب سے بڑی خوبی سب کرداروں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنا اور واقعات کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست رکھنا ،کہ بس صفحہ پلٹنے کی جلدی ہو ، ابتدائی حصے میں تو بے بسی اور ناانصافی کا گہرا احساس رہتا ہے ، اور شادی کے بعد ہیرو کا ہیروئن سے جو رویہ ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا اور اس کو ناکردہ گناہ کی سزا ہی ملتی ہے ،
لیکن پھر جب وقت حقیقت سامنے لے کر آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سنی سنائی باتوں سے کسی کو پرکھ لینا ہی کافی نہیں ہوتا ، بعض اوقات آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوتا ہے اور سامنے ہو کر ہم بھی لوگوں کے جھوٹ کو نہیں پکڑ سکتے۔
کہانی میں گھریلو ماحول،والدین اور اولاد کے درمیان تعلقات کو بھی بہت اچھے سے بیان کیا گیا ہے اور اس میں کونسا کردار کہاں غلطی کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے غلط فیصلوں کے نتائج کو بھی دکھایا گیا ہے کہ کیسے دوسروں کے لیے گھڑا کھود کر آپ خود بھی اس میں گر سکتے ہیں ۔۔اس سے مصنفہ نے بہت اچھا سبق بھی دیا ہے۔۔
نکاح کے رشتے کی اہمیت اور شادی کے بعد کی زمہ داریوں کو کیسے نبھایا جانا چاہیے ہر موضوع کو ایک اچھی ترتیب کے ساتھ لکھا ہے۔ خوشگوار اختتام سے کہانی کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ۔
آخر میں بس اتنا۔۔
عفت سحر طاہر کا یہ ناول ایک فورسڈ میرج پر مبنی سٹوری ہے جو کہ اچھے صاف ستھرے رومینس کے ساتھ لکھی گئی ہے اور جس میں رشتوں کی پہچان اور کچھ سبق آموز واقعات بھی ہیں اس لئے وہ تمام لوگ ضرور پڑھیں جو کہ عفت سحر طاہر کی کہانیوں کے فین ہیں اور آفٹر میرج کہانیاں پڑھنا بھی پسند کرتے ہیں ۔










