📚 ناول: شکر پارے
✍️ مصنفہ: اُمِّ طیفور
اشاعت: کرن ڈائجسٹ نومبر 2016
اُمِّ طیفور کی تحریر کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ مزاح کے پردے میں زندگی کی گہری حقیقتیں بھی بہت خوبصورتی سے بیان کر دیتی ہیں 😍 ان کی کہانی پڑھتے ہوئے کئی جگہ بے اختیار ہنسی آتی ہے اور کئی باتیں دل میں اتر جاتی ہیں 💕
اس ناول کی کہانی بھی خاصی منفرد اور دلچسپ ہے۔ یہاں دو نسلوں کی دو محبتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں 😊 ایک طرف نانا اور نواسے کی کہانی ہے تو دوسری طرف خالہ اور بھانجی کی، اور پھر دونوں طرف کے رشتوں میں محبت کے رنگ کچھ اس طرح بکھرتے ہیں کہ پڑھنے میں خوب مزہ آتا ہے 😍
کہانی کا آغاز:
ہیرو ملازمت کے سلسلے میں اپنے نانا کے گھر آ کر رہتا ہے۔ نانا اکیلے رہتے ہیں اور ان کے گھر کے نچلے حصے میں ایک دوسری فیملی بھی آباد ہے، جس کے حالات بھی کہانی کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔
نانا کے گھر کے بالکل سامنے ہیروئن اپنی خالہ کے ساتھ رہتی ہے۔ ہیروئن اپنے والدین کو ایک حادثے میں کھو چکی ہے جبکہ اس کا بھائی بیرونِ ملک رہتا ہے۔ والدین کے بعد اس کی خالہ ہی اس کا سہارا ہیں ❤️
خالہ کی شادی بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی اور طلاق کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ وہ تقریباً پچاس برس کی ایک استاد ہیں مگر ان کی شخصیت میں ایک ایسی خاص بات ہے جو کہانی کے مزاح کو اور بھی بڑھا دیتی ہے 😅
ان کا وہ انداز مجھے خاص طور پر بہت پسند آیا اور پڑھتے ہوئے خوب انجوائے کیا۔
💞 ہیرو اور ہیروئن کی نوک جھونک، دلچسپ حالات اور دونوں جوڑوں کی محبت کہانی کو مسلسل آگے بڑھاتی ہے۔ محبت سے رشتے کے بندھن تک کا سفر بہت پیارے اور ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا گیا ہے 💍
میری رائے:
یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں مزاح بھی ہے، محبت بھی، خاندانی رشتوں کی خوبصورتی بھی اور کئی مسکراہٹیں بھی 😊 اختتام بھی بہت میٹھا اور خوشگوار ہے۔
❤️ اگر آپ ہلکی پھلکی، مزاحیہ اور فیملی کے ساتھ محبت کی خوبصورت کہانی پڑھنا چاہتے ہیں تو شکر پارے ضرور پڑھیں۔ یہ واقعی Must Read ناول ہے! 📖✨







