Novel Details
Novel: Sheesha sifat na kar
Writer: Memoona Khurshid Ali
Published in: Khwateen Digest August 1998
Status: Complete Novel
Pages:20
Genre: After Marriage ❤️| Family Based
File Format: Pdf (Online)
Novel Description
📖 ناول کا نام: “شیشہ صفت نہ کر”
🌹 اشاعت: خواتین ڈائجسٹ، اگست 1998
✍️ مصنفہ: میمونہ خورشید علی
📄 صفحات: 20
💞 یہ ایک خوبصورت اور قدرے منفرد After Marriage based کہانی ہے، جس میں ازدواجی رشتے اور اعتماد کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے ♥️
✨ ہیرو اشعر کاروباری کام کے سلسلے میں اکثر اپنے دوستوں کے ہمراہ دوسرے شہر کا سفر کرتا ہے۔ دورانِ سفر دوست اپنی اپنی بیویوں اور گھریلو زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں 🙂۔
❤️ اشعر کو اپنی بیوی مصباح سے کسی قسم کی شکایت نہیں، بلکہ وہ اس پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اپنی ذاتی اور نجی باتیں بھی اس کے ساتھ بانٹتا ہے۔ لیکن جب یہی باتیں ایک خاص موڑ لیتی ہیں تو حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں؟ 💭💕 یہ جاننے کے لیے کہانی ضرور پڑھیں۔
🌸 ایک مختصر مگر دلچسپ پرانی کہانی، جس میں رشتوں، اعتماد اور سمجھ بوجھ کا خوبصورت پیغام ملتا ہے۔ آخر میں کہانی خوشگوار انجام کے ساتھ مکمل ہوتی ہے 🙂
کردار ؛
اشعر: ہیرو؛ کاروباری، کھلے دل کا اور بیوی پر پورا بھروسا کرنے والا۔ اس کی بے تکلفی ہی کہانی کا محرک بنتی ہے۔
مصباح: ہیروئن؛ اشعر کی شریکِ حیات، جس کی سمجھ داری رشتے کی آزمائش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اشعر کے دوست: سفر کے ساتھی جن کی گفتگو سے کہانی کا ماحول اور موڑ بنتا ہے۔
ناول پر میرا تبصرہ ۔۔
میمونہ خورشید علی کی یہ مختصر تحریر اس نازک حقیقت کو چھوتی ہے کہ ازدواجی رشتے میں سب سے قیمتی سرمایہ بھروسا ہے، اور اسے سنبھالنے کا سلیقہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ عنوان میں ایک التجا کی جھلک ہے، گویا دل کو اتنا کچا نہ بنایا جائے کہ ذرا سی ٹھیس سے بکھر جائے۔ صرف بیس صفحات میں مصنفہ نے ایک ایسا موضوع اٹھایا ہے جو ہر گھر کے لیے سبق رکھتا ہے۔
کہانی کی بنیادی خوبی اس کا غیر روایتی زاویہ ہے۔ عام طور پر ڈائجسٹ میں شادی کے بعد کی کہانیاں شکوؤں اور ناراضیوں پر چلتی ہیں، مگر یہاں شوہر بیوی سے مطمئن ہے اور کشمکش کہیں اور سے جنم لیتی ہے۔ سفر کے دوران دوستوں کی بے تکلف محفل اور بیویوں کے تذکرے ایک حقیقی مردانہ ماحول کی تصویر ہیں، جس میں ہنسی مذاق کے پردے میں سنجیدہ سوال چھپے ہوتے ہیں۔ یوں مصنفہ بتاتی ہیں کہ گھر کی باتیں باہر کی مجلسوں میں کس طرح اثر ڈال سکتی ہیں۔
ہیرو کا کردار سادہ دلی اور کھلے پن کی مثال ہے۔ وہ شریکِ حیات کو راز دار سمجھتا ہے، اور یہ خوبی اس کی محبت کا ثبوت بھی ہے اور اس کی احتیاط کی کمی بھی۔ دوسری جانب ہیروئن کا کردار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بھروسے کا بوجھ اٹھانا کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔ دونوں کے درمیان سمجھ بوجھ ہی وہ دھاگا ہے جو کہانی کو باندھے رکھتا ہے، اور اس میں کوئی بناوٹی ڈرامائی موڑ نہیں ڈالا گیا۔
البتہ اتنے کم صفحات میں کرداروں کی گنجائش محدود رہ جاتی ہے، اس لیے دوستوں کے خاکے دھندلے ہیں اور بیوی کے احساسات کو زیادہ جگہ نہیں ملتی۔ پیغام بھی کہیں کہیں براہِ راست محسوس ہوتا ہے، حالانکہ اشارے سے کام لیا جاتا تو اثر گہرا ہوتا۔
ایک آخری بات؛
اوور آل یہ ایک مختصر اور سبق آموز کہانی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہر بات ہر جگہ کہنے کی نہیں ہوتی سادہ اور پر اثر کہانی۔













