Us din ko ana hai by Durr e Saman

Us din ko ana hai by Durr e Saman

ناول کے بارے میں معلومات ۔۔

🌹 اُس دن کو آنا ہے

مصنفہ: درِ ثمن
اشاعت: کرن ڈائجسٹ، دسمبر 2003
صفحات: 35
After Marriage ،Revenge basee ، Family Story 💕

عنادل کے والدین نے اپنی پسند سے شادی کی ہوتی ہے ❤️۔ عنادل نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ والدین کے ساتھ بیرونِ ملک گزارا ہوتا ہے، لیکن والدہ کے انتقال کے بعد اس کے والد اسے لے کر پاکستان واپس آ جاتے ہیں۔ یہاں عنادل کی ملاقات اپنے خالہ زاد روہان سے ہوتی ہے، جو رفتہ رفتہ اسے پسند کرنے لگتا ہے۔ 🥰

عنادل کے والد اسے اپنے ددھیال لے جاتے ہیں، جہاں حویلی کے ماحول میں اس کا سامنا اپنے سوتیلے تایا کے بیٹے حاتم سے ہوتا ہے۔ حاتم آوارہ مزاج ہونے کے ساتھ عنادل کے لیے بری نیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ 😔

اسی دوران عنادل کے والد کی اچانک وفات ہو جاتی ہے 💔۔ حالات سے گھبرا کر عنادل حویلی سے نکل آتی ہے اور اس کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔

کہانی میں رافع کا کردار بھی اہم ہے، جو روہان کا دوست اور ان کے پڑوس میں رہتا ہے۔ 🌸 عنادل اور رافع کے درمیان بننے والا رشتہ آگے چل کر ایک خوبصورت ازدواجی زندگی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ ان کے درمیان محبت، قربت اور جذبات کو کہانی میں خاص انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ ❤️‍🩹

خاندانی رشتوں، مشکل حالات، بدلے اور شادی کے بعد پروان چڑھنے والی محبت کو خوبصورتی سے سمیٹتی ہوئی یہ ایک مختصر مگر دلچسپ کہانی ہے، جس کا اختتام خوشگوار ہوتا ہے۔ 💖✨

کردار؛

عنادل: پردیس میں پلی بڑھی حساس لڑکی، جو والدین کے بعد تنہائی اور خطرات کے بیچ اپنی عزت اور حوصلہ سنبھالے رکھتی ہے۔
رافع: نرم مزاج اور قابلِ بھروسا شخص، جو مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے اور رشتے کو محبت کی بنیاد دیتا ہے۔
روہان: عنادل کا خالہ زاد، جو اس کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے مگر کہانی کا مرکز نہیں بن پاتا۔
حاتم: آوارہ اور خودغرض کردار، جو کہانی کے تناؤ اور خطرے کی بنیاد ہے۔

ناول پر میرا تبصرہ ۔۔

درِ ثمن کی یہ تحریر پینتیس صفحات کے مختصر دائرے میں بدلے، محبت اور خاندانی سیاست کو سمیٹنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ آغاز میں پردیس سے وطن لوٹنے کا احساس بڑی خوبی سے ابھارا گیا ہے، جہاں ایک لڑکی اپنی جڑوں کو دوبارہ پہچاننے کی کوشش کرتی ہے مگر اسے اپنائیت کے ساتھ خطرات بھی ملتے ہیں۔
سنہ دو ہزار تین کے کرن ڈائجسٹ کا مخصوص مزاج یہاں نظر آتا ہے: سادہ زبان، جذبات میں شائستگی اور کرداروں کے درمیان مکالمے کے ذریعے کشیدگی کی تعمیر۔ حویلی کا ماحول گھٹن اور اجنبیت کا ایسا تاثر دیتا ہے جو ہیروئن کی بے بسی کو نمایاں کر دیتا ہے۔ منفی کردار کی موجودگی کہانی میں تناؤ پیدا کرتی ہے اور قاری کو مسلسل متوجہ رکھتی ہے۔ دوسری طرف محبت کا رنگ ایک دم نہیں چڑھتا بلکہ آہستہ آہستہ اعتماد کی شکل لیتا ہے، جو شادی کے بعد کی کہانیوں میں ہمیشہ بھلا لگتا ہے۔
البتہ پینتیس صفحات میں کئی کرداروں اور موڑوں کو جگہ دینے کی وجہ سے بعض حصے جلدی میں نمٹائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ابتدائی رشتوں کی طرف جھکاؤ اور پھر اچانک سمت بدل جانا کچھ قارئین کو کھٹک سکتا ہے، اور اگر مصنفہ کو چند صفحات مزید ملتے تو کرداروں کی نفسیات زیادہ گہرائی سے سامنے آ سکتی تھی۔ اس کے باوجود کہانی کا بنیادی خیال واضح رہتا ہے کہ مشکل وقت میں سہارا بننے والا ہاتھ ہی اصل رشتہ ہوتا ہے، خواہ وہ پہلے سے طے ہو یا نہ ہو۔ بدلے کا عنصر بوجھل نہیں ہونے پاتا اور رومان کے ساتھ متوازن رہتا ہے۔ جو قارئین مختصر، تیز رفتار اور خاندانی پس منظر رکھنے والی ازدواجی کہانیاں پسند کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک دلچسپ انتخاب ہے۔ اختتام خوشگوار سکون دیتا ہے اور قاری پوری طرح مطمئن ہو کر کتاب بند کرتا ہے۔

Read PDF Online

Us Din Ko Ana Hai By Durr E Saman

Novels Cafe Avatar

Latest Post