Novel: Yai Jo zeesat ka safar hai
Writer: Durr e Saman
Published in: Kiran Digest August 2005
Status: Complete Novel
Pages:33
Genre: After marriage| Social Romantic Novel| Family based
File Format: Pdf (Online)
Durr e Saman -Author
Durre Saman is a lovely name among readers of Pakistani Urdu digest fiction. Her novels have appeared in popular publications including Shuaa, Khwateen, Kiran, and Aanchal Digest. She is particularly associated with romantic and social stories that explore love, marriage, family relationships, and the emotional experiences of her characters. Some of her known works include Khawab Lamhay, Tum Se Mohabbat Hai, Mohabbat Rooth Jaye To, Ab Mere Ho Ke Raho, and Chalo Kuch Diye Jalaein. Her fiction often combines romance with family situations and emotional turning points, creating stories that appeal to readers who enjoy relationship-focused Urdu novels.
Novel Description
یہ جو زیست کا سفر ہے از قلم در ثمن
یہ ایک خوبصورت آفٹر میرج کہانی ہے جو جذبات، رشتوں اور زندگی کی حقیقتوں کو بڑے دلکش انداز میں پیش کرتی ہے 💫
کہانی کی ہیروئن زرتاشہ ہے جو کہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد گاؤں میں اپنے ماموں کے گھر چلی جاتی ہے اور پھر انہی کے ہاں پرورش پاتی ہے 💔 جبکہ اس کے والد دوسری شادی کر کے شہر میں مقیم ہوتے ہیں۔ ماموں کے اصرار پر آخرکار وہ اسے اپنے پاس بلا لیتے ہیں 🤍
وہیں ہیرو معاویہ کی انٹری ہوتی ہے، جو سوتیلی ماں کا رشتہ دار ہے اور گھر میں اس کا آنا جانا رہتا ہے 😍 آہستہ آہستہ کہانی میں تعلقات، جذبات اور زندگی کے نئے رنگ کھلتے ہیں۔
آگے کیا ہوتا ہے ناول ریڈ کرنے پر ہی پتہ چلے گا
💖 ہلکی پھلکی رومانوی اور فیملی بیسڈ اسٹوری جس کا انجام خوشگوار ہے 💏 ضرور پڑھنے والی کہانی! 😊
میری رائے “یہ جو زیست کا سفر ہے” ناول پر۔۔
“یہ جو زیست کا سفر ہے” — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی
درِ سمن سلیم کا یہ ناول اگست 2005 کے کرن ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا، اور آج اتنے برس بعد بھی پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ یہ ان کہانیوں میں سے ہے جو شادی کے بعد کے رشتوں اور محبت کے نرم احساسات کو بڑی سادگی سے بیان کرتی ہیں۔
ہیروئن زرتاشہ ماں کی وفات کے بعد گاؤں میں اس کے ماموں اسکو اپنے پاس اپنے گھر لے جاتے ہیں اور وہی اسکی پالنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں ،اس کے والد نے دوسری شادی کر لی اور شہر میں جا بسے۔ ایک بیٹی کے لیے ماں کے بعد باپ کا سایہ بھی دور ہو جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، یہ احساس پوری کہانی میں جھلکتا ہے۔ پھر ماموں کے اصرار پر والد اسے اپنے پاس شہر لے آتے ہیں، جہاں اسے سوتیلی ماں اور نئے ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے گھر میں اجنبیت، خاموش آنسو اور اپنوں کے بیچ بھی تنہائی کا احساس کہانی کو گہرائی بخشتا ہے۔
ہیرو معاویہ سوتیلی ماں کا رشتے دار ہے اور اس گھر میں اس کا آنا جانا رہتا ہے۔ یہیں سے کہانی میں نئے موڑ آتے ہیں، اور دو مختلف مزاج کے لوگوں کے درمیان بننے والا تعلق قاری کو آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ معاویہ کا کردار نرمی اور سمجھداری کا حسین امتزاج ہے، جو کہانی کو خوبصورت رخ دیتا ہے۔
ناول کی خوبی اس کا سادہ پر اثرانداز ہے ،کہیں بے جا طوالت نہیں ،کہیں مصنوعی پن نہیں، کرداروں کے جزبات حقیقت لگتے ہیں اور پڑھتے ہوئے انسان خود کو اس حصہ سمجھتا ہے ۔مکالمے فطری ہیں اور منظر نگاری دیہات اور شہر کے فرق کو بخوبی اجاگر کرتی ہے۔
اگر آپ رشتوں کی نزاکت محبت اور خوش انجام کہانیوں کو پڑھنا پسند کرتے ہیں تو یہ ناول ضرور پڑھیں 🥰












