ناول کی تفصیل:
ناولٹ: عید یا عیدی
مصنفہ: راحت جبیں
اشاعت: شعاع ڈائجسٹ، دسمبر 2003
صفحات: 27
موضوع
یہ ایک خوبصورت مشترکہ خاندانی ماحول پر مبنی دلکش کہانی ہے۔ 💫 جس میں عید کی خوشیوں کے موقع پر مشتمل لکھا گیا ہے
ہیرو منعم گزشتہ پانچ سال سے ملازمت کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم ہوتا ہے۔ اس کا تعلق ایک بڑی جوائنٹ فیملی سے ہے جہاں گھر کی دادی جان کا کردار نہایت دلچسپ اور مزاح سے بھرپور ہے۔ 😄 دادی کو اپنی گیارہ پوتیوں کی شادیوں کی بڑی فکر لاحق رہتی ہے اور وہ ہر وقت ان کے لیے اچھے رشتے تلاش کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منعم کی بہنوں سمیت سات لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی ہوتی ہیں، جبکہ باقی چار ابھی تک اچھے رشتوں کی منتظر ہیں۔ ایسے میں اچانک منعم کی وطن واپسی گھر کی خواتین کے دلوں میں نئی امید جگا دیتی ہے۔ ✨
پوتے کی آمد سے دادی جان کی اہمیت بھی گھر میں بڑھ جاتی ہے اور گھر کا ماحول مزید زندہ دل اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔ کہانی میں خاندانی محبت، ہلکی پھلکی شرارتیں اور خوبصورت پیغام بھی شامل ہے۔ 💕
یہ ایک دل کو خوش کر دینے والی عید کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی ہے جس کا اختتام نہایت خوشگوار اور اطمینان بخش ہے۔ 🥰
اگر آپ کو فیملی بیسڈ، ہلکی پھلکی اور خوشگوار انجام والی کہانیاں پسند ہیں تو یہ ناولٹ ضرور پڑھیں۔ 🌙📖
کردار ؛
منعم: پانچ سال بعد پردیس سے لوٹنے والا نوجوان، جس کی آمد گھر بھر کی امیدیں جگا دیتی ہے۔
دادی جان: زندہ دل اور باتونی بزرگ، جنہیں پوتیوں کے رشتوں کی فکر ہر وقت لگی رہتی ہے۔
گیارہ پوتیاں: ان میں منعم کی بہنوں سمیت سات بیاہی جا چکی ہیں، جبکہ چار اچھے نصیب کی منتظر ہیں۔
کہانی پر میرا تبصرہ ۔۔
راحت جبیں کی یہ کہانی شعاع ڈائجسٹ کے دسمبر 2003ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔ ستائیس صفحات کی اس مختصر تحریر کو پڑھ کر لگتا ہے جیسے قاری کسی بھرے پرے گھر کے آنگن میں آ بیٹھا ہو، جہاں ہر طرف چہل پہل ہے اور ہنسی کی آوازیں گونج رہی ہیں۔
اس کہانی کی جان دادی کا کردار ہے۔ بزرگ خاتون کو عموماً سنجیدہ اور رعب دار دکھایا جاتا ہے، مگر یہاں وہ اپنی باتوں اور فکروں سے مسکراہٹ بکھیرتی ہیں۔ پوتیوں کے بیاہ کی دھن میں ان کی بھاگ دوڑ پڑھتے ہوئے کئی بار ہنسی آتی ہے، اور ساتھ ہی ایک ایسی ہمدردی بھی جاگتی ہے جو ہر اس ماں اور دادی کے لیے ہوتی ہے جسے بیٹیوں کے نصیب کی فکر ہو۔
مشترکہ خاندان کی خوبیاں اور الجھنیں دونوں اس تحریر میں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک چھت تلے رہنے والوں کی نوک جھونک، آپس کی چھیڑ چھاڑ اور ایک دوسرے کے لیے فکرمندی کو مصنفہ نے بڑی سادگی سے پیش کیا ہے۔ کہیں بھی بناوٹ یا بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔ عید کا پس منظر اس فضا کو مزید رنگ دیتا ہے، کیونکہ تہوار کے دنوں میں بچھڑے ہوئے اپنوں کی کمی سب سے زیادہ کھلتی ہے اور ان کی واپسی سب سے بڑی خوشی بن جاتی ہے۔ عنوان میں ایک ہلکی سی شوخی ہے جو کہانی کے مزاج سے میل کھاتی ہے۔
البتہ ستائیس صفحات میں گیارہ پوتیوں اور کئی رشتوں کو سمیٹنا آسان نہیں، اس لیے بہت سے کردار محض نام کی حد تک رہ جاتے ہیں اور ان کی شخصیت پوری طرح ابھر نہیں پاتی۔ اسی طرح ہلکے پھلکے انداز کی وجہ سے کہانی میں کوئی گہرا موڑ نہیں آتا، جو سنجیدہ پڑھنے والوں کو کم محسوس ہو سکتا ہے۔
آخر میں کچھ الفاظ ۔۔
راحت جبیں کی کہانیاں ویسے تو اتنی حقیقی ہوتی ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ ہم سب کے ہی کردار ہیں اور بات جب آئے عید کے موقع کی مناسبت سے تو کہانی پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے اور کہانی کی خوبصورت اینڈنگ تو اور بھی دل کو خوش کر دیتی ہے۔راحت جبیں کے فینز کے لئے خاص تحفہ ۔۔













