Phir baam hoye Roshan By Ayesha Naseer Ahmed

Phir baam hoye Roshan By Ayesha Naseer Ahmed

ناول کا مرکزی خیال، کردار اور تبصرہ ۔۔

ناول: بھَر بَام ہوئے روشن

مصنفہ: عائشہ نصیر احمد
اشاعت: کرن ڈائجسٹ، فروری 2026

یہ ایک دل کو چھو لینے والی دوسری شادی پر مبنی کہانی ہے جس میں جذبات، رشتوں کی تلخی اور امید کی کرن سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ 💞✨
کہانی کی مرکزی کردار ایمان ہے جو اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنی خالہ زاد مہروز کے گھر آ کر رہنے لگتی ہے۔ وہاں کا ماحول اس کے لیے نیا بھی ہے اور آزمائش بھرا بھی۔ مہروز کی شادی تاجی سے ہو چکی ہے، مگر تاجی کا رویہ سخت، زبان تلخ اور مزاج جھگڑالو ہے۔ اپنے بیٹے شازر سے بھی وہ بے اعتنائی برتتی ہے، جو گھر کے سکون کو مزید متاثر کرتا ہے۔ 😔
ایمان یہ سب دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتی رہتی ہے، مگر خاموشی کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ کہانی میں اصل ہلچل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تاجی گھر سے زیورات لے کر اچانک غائب ہو جاتی ہے۔ یہ واقعہ سب کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ ⚡
ادھر ایمان کے لیے آنے والا رشتہ بھی ایک غیر متوقع موڑ لیتا ہے جب اس کی بہن اسے قبول کر لیتی ہے۔ حالات کی کشمکش اور تاجی کے رویّے نے مہروز کے دل میں نفرت کی دیوار کھڑی کر دی تھی، مگر وقت کے ساتھ فیصلے بدلتے ہیں اور تقدیر نئی راہیں کھولتی ہے۔ 🌿
کہانی کی سب سے خوبصورت بات اس کی روانی اور چند ایسے جملے ہیں جو دل میں اتر جاتے ہیں۔ انجام خوشگوار ہے اور قاری کے لبوں پر مسکراہٹ چھوڑ جاتا ہے۔ 🌸💫

کردار؛

ایمان: باوقار اور حساس لڑکی، جو والد کے بعد اجنبی ماحول میں خاموشی سے حالات کا بوجھ سہتی ہے۔
مہروز: ایک الجھا ہوا شخص، جو گھر کی بدمزگی اور ٹوٹے رشتے کی تلخی کے بیچ اپنے دل کے فیصلوں سے لڑتا ہے۔
تاجی: تلخ مزاج اور ضدی عورت، جس کا رویہ گھر کے سکون کو بکھیر دیتا ہے اور کہانی کے موڑ کا سبب بنتا ہے۔
شازر: معصوم بچہ، جو بڑوں کی لڑائیوں میں توجہ اور محبت سے محروم رہ جاتا ہے۔

“پھر بام ہوئے روشن” پر ایک تبصرہ ۔۔

عائشہ نصیر احمد کی یہ کہانی ایک ایسے موضوع کو چھوتی ہے جس پر قلم اٹھانا آسان نہیں، یعنی ٹوٹے ہوئے گھر کے بعد نئے رشتے کی گنجائش۔ مصنفہ نے اس نازک مسئلے کو نعرے بازی کے بجائے کرداروں کے رویّوں کے ذریعے سمجھایا ہے، اور یہی بات تحریر کو سنجیدہ بناتی ہے۔
کہانی کی سب سے مضبوط چیز اس کا ماحول ہے۔ ایک ایسا گھر جہاں تلخی روزمرہ کا حصہ بن چکی ہو، وہاں آنے والی نوجوان لڑکی کی گھٹن اور خاموش مشاہدہ بہت فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بچے کی محرومی خاص طور پر دل کو چھوتی ہے، کیونکہ بڑوں کے جھگڑوں کی سب سے بھاری قیمت اکثر وہی ادا کرتا ہے۔ منفی کردار کو محض ولن بنانے کے بجائے ایسی عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے رویے پر قاری خود سوچنے پر مجبور ہوتا ہے، جو تحریر کو یک رخے پن سے بچاتا ہے۔
کمزور پہلو یہ ہے کہ دوسری شادی کے فیصلے کا جواز کہیں کہیں جلدی میں سامنے آتا ہے اور جذباتی تبدیلیاں تیزی سے ہو جاتی ہیں، جس سے چند مناظر میں تھوڑی مصنوعی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ اگر مصنفہ ان لمحوں کو مزید وقت دیتیں تو اثر بڑھ جاتا۔ اس کے باوجود جملوں کی روانی اور بیان کی سادگی قاری کو آخر تک ساتھ رکھتی ہے۔ کہانی کی بنت میں غیر ضروری پھیلاؤ نہیں، اور ہر موڑ اپنے وقت پر آتا ہے۔ کرن ڈائجسٹ کی مخصوص شائستگی یہاں بھی برقرار ہے، یعنی بات کہی جاتی ہے مگر لہجہ نہیں بگڑتا۔ کہانی یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ تلخیوں کے بعد بھی زندگی نئے سرے سے شروع ہو سکتی ہے، بس حوصلہ اور وقت چاہیے ہوتا ہے۔ جو قارئین سنجیدہ مگر پُرامید خاندانی کہانیاں پسند کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک اچھا انتخاب ہے۔ اختتام ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دل کو سکون دیتا ہے۔

Read PDF Online

Phir baam hoye Roshan By Ayesha Naseer Ahmed

Novels Cafe Avatar

Latest Post